رشتے اور تعلقات:ضرورت اور حالیہ المیہ

رشتے اور تعلق ضرورت اور حالیہ المیہ

 

انسان ایک سماجی جانور ہے۔ کوئی بھی انسان اصل میں تنہا نہیں رہ سکتا، تنہائی انسان کو کھا جاتی ہے اللہ پاک نے انسان کو احساسات و جذبات سے نوازا ہے اور اس کو برتنے اور بروئےکار لانے کے لیے افراد میسر کیے ہیں۔ انسان کا اصل مانوسیت ہے، یہی وجہ ہے کہ تنہا زندگی گزارنا اس کے لیے محال ہے وہ ایک دوسرے کے دکھ درر میں شریک ہونا چاہتا ہے، ایک دوسرے سے ہم کلام ہوکر اپنی حالات و کیفیت بتانا چاہتا ہے اور ایک دوسرے سے تعلق قائم کیے بغیر زندگی کی گاڑی ایک پل بھی آگے نہیں بڑھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس تنہائی انسان کو اندر سے کھا جاتی ہے اور انسان مختلف قسم کی نفسیاتی الجھنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بسا اوقات عزلت نشینی اسے کھوکھلا کرکے رکھ دیتی ہے، اس کی زندگی کو روکھا کر دیتی ہے، تنہائی سے انسان ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہوجاتا ہے تنہائی پسند شخص در حقیقت ایک قسم کا مریض بن جاتا ہے جو لوگوں کے میل جول سے خود کو دور رکھتا ہے۔ بھیڑ اور ازدحام اسے ڈستی ہے۔ انسان کی فطرت تو یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد لوگوں کو نہ پاکر بےچین ہو جائے، لوگوں کو دیکھے تو اس کا دل باغ باغ ہو جائے۔ ایک انسان کے دل میں ایسے جذبات اور احساست جنم لیتے ہیں جو اسے ایک دوسرے سے قریب کرنے پر ابھارتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم لوگ ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں، ہم سب کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، لاتعلقی اور کنارہ کشی سے ہماری زندگی کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ ان سب کے مجموعے کو ہم رشتہ اور تعلق سے تعبیر کرتے ہیں۔ رشتہ اور تعلقات عطیہ الہی ہیں، اس کو برتنا اور نبھانا ہماری اجتماعی ضرورت بھی ہے، عادت بھی ہے، شوق بھی ہے اور فریضہ بھی، رشتہ کی شروعات سب سے پہلے اس شخص سے ہوتی ہے، جو ہمارے دل کے سب سے قریب اور ہم آہنگ ہوتا ہے، جو ہمیں سب سے اچھا لگتا ہے پھر الاقرب ثم الاقرب__ رشتے کی یہ کڑیاں ہمارا ماضی ہوتا ہے آج اور کل بھی۔ اسی لیے اس کی بقا اور تحفظ کے لیے اس میں مزید وسعت، توانائی اور گہرائی کی بھی ضرورت ہے۔ ترک تعلق اخلاقی جرم ہے اور شرعا ممنوع بھی سب کے حقوق طے ہیں، درجات متعین ہیں، افراد بھی میسر ہیں، اب بس ہمیں ان رشتوں کو بحسن و خوبی نبھانے اور ان میں مزید چار چاند لگانے کی ضرورت ہے۔ الحمد للہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حسیات سے نوازا ہے، ہم ایک دوسرے کے ضروریات سے بھی وابستہ ہیں، ذہنی سکون و وارفتگی بھی ہے، قلبی لگاو بھی ہے، پھر کیوں کر ہم پیچھے رہیں؟ ہمیں چاہیے کہ کسی کا ساتھ چھوڑنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیں کہ ہم اب تک اس کے ساتھ کیوں تھے؟ اور اب کیوں قطع تعلقی کر رہے ہیں؟ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنوں سے دور ہونے کے باوجود بھی بہت قریب ہوتے ہیں، ہرآن اُن کی فکر دل و دماغ میں جاگزیں ہوتی ہے، ان کاخیال ذہن سے غائب ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ہم اپنے حلقے میں موجود ہونے کے باوجود تنہا ہوتے ہیں، ہم ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوتے ہیں کہ بُعد شدید کے باوجود اُن کے محسوسات کو بھانپ لیتے ہیں، غم اور خوشی دونوں مواقع پر انہیں ہم سب سے زیادہ یاد کر تے ہیں، خلوت میں ان کی شوخیاں ہمارے لیے حسن کا پیکر بن جاتی ہیں، ان کی حماقتیں کمال کا درجہ پا لیتی ہیں، ان کا غصہ بھی بہت بھاتا ہے، لاکھ نقائص کے باوجود وہ کیا کرتا ہے؟ کیسا ہے؟ کہاں پر ہے؟ ان تمام کی فکر ہمیں دامن گیر رہتی ہے۔ ہر آن بس اسی کی یاد، ہر لمحہ بس اسی کا ذکر، وہ غائب ہونے کے باوجود دل و دماغ میں اتنا مستحضر ہوتا ہے کہ ہم ایک لمحہ بھی اس سے غافل نہیں ہو سکتے، کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ پرندوں سے پر ادھار لے لیں اور اڑ کر اس کے پاس چلے جائیں، بس ایک ہی فکر ستاتی ہے۔ایک ہی غم کھائے جاتی ہے، وہ اب کیا کرتا ہوگا؟ کس حال میں ہوگا؟ ہم اتنے قریب ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں یکساں حصے دار ہوتے ہیں، اس کی عظمت کا سکہ دل و دماغ میں ایسے بیٹھا ہوتا کہ کوئی کچھ بھی کہہ لے کوئی فرق نہیں پڑتا…..سوال یہ ہے کہ اتنا اعتبار ہم لاتے کہاں سے ہیں؟ کون سے چیز ہے جو باہمی ہم آہنگی پیدا کرتی ہے؟ مسافت کی طولانی، مدت دراز سے شرف نیازی سے محرومی، موسم کا تبدیل ہونا، دن و رات کا آنا جانا، حالات کا باستمرار بننا بگڑنا، ذہنی ناہمواری اپنوں اور غیروں کی بیگانگی یہ سب کبھی بھی اثر انداز نہیں ہوتے ان سب کے باوجود ہمارے رشتہ میں وہی لطافت، وہی حسن، وہی شیرینی، وہی شادابی، وہی شگفتگی، وہی بہار، موجود ہوتا ہے۔ ہمارا رشتہ درحقیقت اس حد تک پہنچ چکا ہوتا ہے جہاں پر سارے حجابات اٹھا لیے جاتے ہیں، وہاں رازداری کا مسئلہ ہی نہیں ہوتا ہم دونوں ایک دوسرے کے ہمراز ہوجاتے ہیں، بے تکلفی ہماری پہچان اور پاکیزہ رشتہ کی دائمی ضرورت بن جاتی ہے۔ باہمی اعتبار ایسا کہ حالات کے اتار چڑھاؤ کب گزرتے ہیں، پتا نہیں چلتا شفافیت اس تعلق کا اساس ہوتی ہے، مکدرات یہاں پنپنے نہیں پاتیں، صاف گوئی اس کا امتیاز ہوتی ہے، حسین تصورات کے پھول یہاں کھلتے ہیں، خوشیاں یہی براجمان ہوتی ہیں، نئے احساسات یہیں جنم لیتے ہیں، ہر ہر آن ہر ہر لمحہ باہمی رشتہ میں نیاپن آتا رہتا ہے، لمحہ بہ لمحہ رشتہ میں توانائی، مضبوطی ہمواری اپنا کمال دکھاتی رہتی ہے پھر اس تعلق کو نیا موڑ ملتا ہے اس سے نئی نئی کونپلے پھوٹتی ہیں، نئے نئے بیل بوٹے جنم لیتے ہیں، نئی نئی شاخائیں اس سے نکلتی ہیں، رشتے درحقیقت احساسات اور دل کے ہوتے ہیں ایمان، دل اور باہمی ضروریات و اکتسابات اسے مزید توانائی فراہم کرتے ہیں؛ مگر احساسات و دلی جذبات کے بنا باہمی اکتسابات و احتیاجات وقتی ضرورت سے اوپر نہیں اٹھ پاتے، ان میں اتنا اثر و رسوخ نہیں ہوتا کہ وہ نئے رشتہ قائم کر سکیں مگر اتنی سلبی تاثیر ضرور ہوتی ہے کہ اخلاص کے رشتوں کو تعلق برائے ضرورت ضرور بنا دیتی ہے۔ رشتہ اور باہمی تعلق کے نتیجہ میں جن ضروریات کی تکمیل ہوتی ہے اور جن اکتسابات کا حصول ہوتا ہے، وہ سب رشتوں کی توانائی پر دال ہوتے ہیں، آپ تحفوں اور تحائف کی بھی اسی میں شمار کر سکتے ہیں جو کہ خالص محبت کی علامت ہوا کرتی ہے جس کے جواب میں اکثر سامنے والے کی زبان سے سنا جاتا ہے ارے اس کی کیا ضرورت تھی؛ لیکن اگر انہیں سب چیزوں کا مقصد ریت رواج کو فروغ دینا یا حصول منفعت ہو تو رشتہ سے اخلاص جاتا رہتا ہے اور رشتہ رشتہ برائے خرید وفروخت ہوتا ہے،

موجودہ دور میں رشتوں کی ناہمواری کی ایک وجہ تعلق برائے حصول منفعت و مکتسب ہے۔ آج باہمی رشتوں کی ناپایداری کا جو المیہ ہے اس سے ہم باخبر ضرور ہیں مگر کون اس کی خبر گیری کرنے والا ہے؟ کسے رشتوں سے مطلب ہے؟ ان سب کے نتیجہ میں جاسوسی نظام کو مزید تقویت ملی ہے اچھا تو یہ ہیں کون؟ کیا کرتے ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کن کن سے تعلقات ہیں تو یہ ہوا تھا اس نے اب تک چھپائے رکھا ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے ہم بیوقوف ٹھہرے ابھی بتاتے ہیں ابھی کچھ کرتے ہیں، اس کا بھانڈا تو میں پھوڑوں گا سمجھتا کیا ہے خود کو اب وقت آیا ہے بتانے کا کہ کون کتنے پانی میں ہے پھر جو ہوتا ہے وہ سب جانتے ہیں بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی…..خیر بات رشتوں کی چل رہی تھی رشتے رشتے ہیں جو انسانوں کو متمدن اور متدین باور کراتے ہیں، رشتے باہمی تعلق کا بہترین مظہر ہوا کرتے ہیں، میری خواہش ہے اور میری درخواست بھی کہ رشتوں کو رشتہ کی حیثیت سے جانا جائے اور اس کو اس کا کھویا ہوا مقام دیا جائے، رشتے حصول منفعت کی چیز قطعی نہیں ہیں، انہیں اکتساب زر و ہوس و منفعت کا ذریعہ نہ بنایا جائے، آج رشتے بے روح ہو چکے ہیں، پزمردہ ہو گئے ہیں، کوئی لطافت باقی نہیں رہی، آج رشتے تعصب کی آگ میں جل رہے ہیں، حزبیت کی دوزخ میں جھونک دیے گئے ہیں، باہمی رنجشوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، ہم سکڑتے جا رہے ہیں، ہمارا حصار تنگ ہوتا جا رہا ہے باتوں سے ہم بہت بڑے سماجی لگتے ہیں؛ مگر ہمارے آنسو گھڑیالی آنسو ہوتے ہیں، مزاج میں منافقت دوہراپن اور باتیں تو محض باتیں ہی ہوتی ہیں، ہم پھر سے التجا کرتے ہیں کہ خدارا رشتوں کو بڑھائیں، تجارت کا ذریعہ مت بنائیں۔

اللہ ہم سب کو اس کی توفیق دے اور حسن نیت عطا فرمائے… آمین!

 

محمد افضل محی الدین

حیدرآباد ،تلنگانہ

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *