ہندوستان کی موجودہ صورتحال

ہندوستان کی موجودہ صورتحال

 

تحریر ۔۔۔ تمیم اختر ہرلاکھی مدھوبنی بہار

 

مادر وطن ملک ہندوستان کی موجودہ صورتحال اور انکی مستقبل کو دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہوگئیں دل لالہ زار ہوگیا آئے دن ملک عزیز کی حالت بد سے بدتر ہوتی جارہی ہیں ہندوستان کی پوری تصویر بدل ہوچکی ہیں ہر سمت نفرتوں کی فضا قائم ہیں زہریلی ہوائیں چل رہی ہیں موجودہ حکومت وقت جب سے بر سر اقتدار میں آئی اسی وقت سے مادر وطن میں کشیدگی پھیل گئی اتحاد و اتفاق کا خاتمہ ہونے لگا عزتیں سر عام لٹنے لگی قتل عام شروع ہو گیا کوئی بھی فرد یہاں خود کو محفوظ نہیں سمجھتا چہار جانب لوگ پریشان ہیں ۔

ہندوستان کی اقتصادی حالت لمحہ فکریہ ہے ایک متوسط طبقے کے لوگوں کا جینا محال ہے انہیں یہاں کی معاشی حالت ہی خود کشی کرنے پر مجبور کر دے گی غریبوں کا تو خاتمہ ہو ہی رہا ہے جو امیر ہیں وہ امیر ہوتے جا رہے ہیں ۔

بہر کیف ان مسائل سے ابھی ابھرے ہی نہیں تھے ابھی مسجد بابری کی شہادت کے ناحق فیصلہ سے رنجور ہی تھے کی

N R C ترمیم شہر کا معاملہ ابھر آیا اور یہ بل پاس کر نے کے ناپاک عزائم بھی شباب پر ہے ممکن ایوان میں بھی پاس کر دیا جائے اس بل کے خلاف پورے ملک میں احتجاج جاری ہیں اس ہجوم میں کئی جانیں لقمہ اجل ہوگئیں بےشمار زندگی موت سے جنگ لڑ رہی ہیں فلسطین و برما جیسی حالت ہوتی جارہی ہیں حکومت کا یہاں یہی مقصد ہے ہندوستان میں ہندو راشٹر قائم ہو چاہیں قتل عام کیوں کرنا پڑے لاشوں کا پل کیوں نہ باندھ نا پڑے انکی دوغلی سیاست رذیل حرکت قابل مذمت ہے اگر یہ بل مکمل طور سے پاس کیا گیا تو ہندوستان کی تصویر سرخ ہوجائے گی معصوم جانوں سے کھیل وار عام ہو جائیں گے شہر بدر کا مسئلہ آجائے گا جس ملک میں کوئی چیز محفوظ نہیں جو حکومت فرضی ڈگری لیکر حکومت کر رہی ہو انہیں اپنا دستاویز دیکھنا ہوگا اس میں کمی ہو تو باشندہ وطن ہونے سے انکار کیا جائے گا ۔

مختصر آپ یہ سمجھیں قوم مسلم کو نشانہ بنایا جارہا ہے اسے شہر بدر کرنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں ان کے حقوق غصب کرنے کی کوشش ہورہی ہیں

ایسی نازک گھڑی میں ہماری ذمہ داریاں کیا بنتی ہیں

سب پہلے تو بارگاہ خدا میں سجدہ ریز ہوں ہر مسئلہ کا حل وہیں سے ہوگا خدا کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں حکومت وقت کو گھٹنے ٹیکنے ہوں گے بشرط کے ہم ایک ہو جائیں بغیر تفریق مذاہب ایک صف میں کمر بستہ ہوکر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ ہمارے حقوق ہم سے صلب کئے جا رہے ہیں اگر ابھی ہم نے ہوش کا ناخن نہ لیا ایک ہوکر غدار وطن سے نہیں لڑا تو وہ دن دور نہیں کہ ہندوستان سے مسلمان کا صفایا کردیا جائے ہمارے اسلاف کی قربانیوں کو بھلا دیا جائے ۔

ابھی وقت ہے ہمت و جرات اور استحکام سے کام لیں جب عزت لوٹی جائے آپ کے حقوق چھینے جائے ایسی صورت میں بھی جہاد جائز ہے اپنے مال و زر کی حفاظت کے لئے جاں ہتھیلی پہ لیکر اکھاڑے میں اترنا ہوگا اور ظالموں کے منصوبوں کو انکی گندی فکر کو برباد کرنا ہو گا ورنہ نئی نسل آپ کو معاف نہیں کرے گی

 

دعا اے مالک ملک عزیز کی سالمیت کو برقرار رکھ اور مسلم قوم کی حفاظت فرما آمین یا رب العالمین

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *