شکایت مجھے ان گدی نشینوں سے ہے

*شکایت مجھے اِن گدی نشینوں سے ہے!*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*از قلم : محبوب عالم عبدالسلام*

 

*جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران تعلیمی مظاہرہ کریں گے تو عوام سے چندہ کی اپیل کریں گے، کہیں زلزلہ و سیلاب آگیا تو مصیبت زدگان کی مدد کے لیے چندہ، اجلاس و کانفرنس کریں گے تب بھی عوام سے چندہ، کوئی سیمینار کریں گے تب بھی عوام سے چندہ، کوئی عمارت تعمیر کروانی ہوگی تب بھی عوام سے چندہ، کوئی مسابقہ ہوگا تب بھی عوام سے چندہ، غرض ایک لمبی فہرست ہے اور ہاں یہ چندہ ہندوستان کے اندر شہر شہر، گاؤں گاؤں، گلی گلی کیا جاتا ہے، سعودی عرب سے جو عطیات و خیرات آتا ہے اس کو تو الگ سائڈ کر دیجیے۔ ہر چیز میں آپ حضرات اہل حدیث عوام کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق مدد بھی کرتے ہیں، مگر اسی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے آپ لوگ ایک لفظ بھی نہیں بول سکتے، ایک تحریر نہیں لکھ سکتے، مت نکلیے سڑکوں پر اس لیے کہ آپ ذمہ داران کا لمحہ لمحہ ذکر الہی میں غرق رہتا ہے، آپ کی زندگی کے شب و روز سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر کا ورد کرتے ہوئے گزرتی ہے؛ لیکن کم از کم کچھ تو کرتے کہ عوام کو تسلی ہوتی کہ ہاں ہمارے قائدین زندہ ہیں اور مستقبل میں ہمارے خوش حال زندگی کے لیے کچھ کر رہے ہیں۔*

*ایوان بالا میں شہریت ترمیمی بل پاس ہونے کے بعد مرکزی جمعیت اس کی تردید میں ایک بیان جاری نہ کر سکی، ایک ویڈیو ریکارڈ نہ کروا سکی، چار دن بعد جب کہ پورے ہندوستان کے اندر مختلف شہروں اور علاقوں میں اس بل کے خلاف پرزور مظاہرہ کیا گیا، اور عوام نے پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، جامعہ ملیہ دہلی و مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے طلبہ نے تاریخ ساز کارنامہ انجام دیا، پولیس کی لاٹھیاں کھائیں، آنسو گیس کو برداشت کیا پھر بھی محاذ پر ڈٹے رہے، بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بل کی شدید مذمت کی، مگر افسوس پھر بھی مرکزی جمعیت کی کسی ذمے دار کو یہ توفیق نہ مل سکی سوائے مولانا جرجیس سراجی کے کہ دو لفظ بھی زندوں کی طرح بول دے۔*

*جب سوشل میڈیا پر تنظیموں کے سربراہان کو ہر طرف سے لتھیڑا گیا، ان کی سرزنش کی گئی تب جاکر مرکزی جمعیت کے ذمہ داران کو دو لفظ لکھنے کی توفیق مل سکی۔ شکر ہے بابری مسجد قضیے کی طرح اس دفعہ کوئی بزم نہیں منعقد کی گئی کہ جہاں پر تنظیموں کے قائدین کو مدعو کیا جاتا ورنہ ہمارے امیر جمعیت ضرور وہاں تشریف لے جاتے اور اس بار ہندوستان کو جد الدنیا کے لقب سے ضرور ملقب کرتے، اسی طرح صوبائی جمعیت ممبئی کے ذمہ داران ہیں، جہاں کے بارے میں بہت شور و غوغا ہے کہ بہت متحرک جمعیت ہے اور بیدار مغز کارکنان ہیں، چار دن کے بعد انھیں بھی ہنگامی میٹنگ کی توفیق ملی اور ایک پھسپھسی بیان جاری کرنے کا موقع مل سکا، جھولا میدان سجانے کی اور ویڈیو ریکارڈ کروانے کی البتہ خوب توفیق ملتی ہے۔*

*آج آپ حضرات اہل حدیث عوام کے لیے چپی سادھے ہوئے ہو، کل آپ لوگ کون سا منہ لے کر عوام کے سامنے مدد کے لیے جائیں گے، آپ لوگوں کو شرم نہیں آئے گی، آپ حضرات کا نفس اور ضمیر آپ کو نہیں جھنجھوڑے گا، یقیناً جھنجھوڑے گا؛ لیکن آپ سب بے حس ہوچکے ہیں، آپ لوگوں کی غیرت مر چکی ہے، آپ سب اپنے مفاد کے غلام بن چکے ہیں؛ اس لیے لب کو سی رکھے ہیں، بولنے سے ڈرتے ہیں، باہر نکلنے پر خوف محسوس کرتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ یہی عوام آپ جیسے اہل جبہ و دستار کو ذلیل کرکے اپنے در سے کتوں کی طرف بھگا دے اور آپ ایک ایک روپے کے چندہ کے لیے ترس جاؤ۔ ابھی بھی وقت ہے آپ لوگ ہوش میں آئیے، خوابِ غفلت سے بیدار ہوئیے اور اپنی قیادت کا پختہ ثبوت دیجیے، شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف متحدہ طور پر آواز بلند کیجیے، دستور ہند کی دھجیاں اڑانے والوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر مقابلہ کیجیے، ظالم حکمرانوں کو سبق سکھائیے اور پوری کوشش کرکے شہریت ترمیمی بل کو ختم کرائیے۔ ورنہ پھر یاد رکھنا تمھاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔*

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *