اے مرکز علم و عرفان سیہور تجھے سلام

 

وطن عزیز ہندوستان میں بی ایڈ ڈگری کی اہمیت مسلم ہے، سرکاری اسکولوں و کالجز میں اپنی تقرری یقینی بنانے کے لیے اس ڈگری کا ہونا ضروری ہے، بلکہ اب تو ایسا ہو گیا ہے کہ کوئی شخص اس ڈگری کے بغیر پرائیویٹ اسکول و کالج میں بھی نہیں پڑھا سکتا، اگر کسی نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ ادارہ ہی حکومت کی زد میں نہ آ جائے.

اس ڈگری کی مذکورہ اہمیت و ضرورت کو دیکھتے ہوئے چند مخلص احباب جن میں جناب جناب فہیم جسیم مدنی، ایڈیٹر ماہنامہ مجلہ طوبی اور جناب اقبال قاسم تیمی، ڈائریکٹر وسڈم بوائز اینڈ گرلز اسکول، مرشد آباد بنگال کے مشورے و تعاون پر احقر نے بھی مدھیہ پردیش کے ضلع سیہور میں واقع شری ستیا سائیں یونیورسٹی بی ایڈ سیشن2021-2019 میں داخلہ لے لیا ہے.

اس کے فرسٹ سمسٹر کا امتحان ماہ رواں میں ہوا، اس میں مجھے اپنی شرکت یقینی بنانی تھی، میں نے 11 دسمبر کو اپنے بی ایڈ ساتھیوں جناب عقیل ساجد تیمی(استاد جامعہ امام ابن تیمیہ) جناب ثاقب خان (استاد ڈی ایم ایل پبلک اسکول چندنبارہ) جناب کوثر عطا تیمی (استاد جامعہ امام ابن تیمیہ ) اور جناب اعجاز احمد (استاد درشن بوائز اینڈ گرلز اسکول سہرسہ) سے رابطہ کیا، اور وہاں جانے کے سلسلے میں باتیں کیں ، ان کی طرف سے جواب ملا کہ آپ 12 دسمبر کو پٹنہ آ جائیں، ہماری ٹرین 13 دسمبر کی صبح 11:00 بجے وہاں سے روانہ ہو جائے گی، میں نے ان سے مذکورہ تاریخ کو ہر حال میں پٹنہ پہنچنے کا وعدہ کر دیا.

حسب وعدہ میں 12 دسمبر کی صبح 8:00 بجے میں تنے تنہا پٹنہ کے لیے روانہ ہو گیا، اور الحمد للہ شام 5:00 بجنے سے پہلے ہی صحیح سلامت وہاں پہنچ بھی گیا، وہاں مجھے عقیل ساجد کی رفاقت حاصل ہو گئی ، ہم دونوں نے پٹنہ میں میرے عزیزان ساجد ناز اور ندیم ساز کے یہاں رات گزاری،انہوں نے بڑی عقیدت و محبت کے ساتھ ہماری زبردست خاطر داری کی، اور آئندہ بھی آنے کا اصرار کیا، اللہ تعالیٰ انہیں قوم و ملت کا حقیقی خادم بنائے آمین.

13 دسمبر کی صبح 8:00 بجنے سے قبل ہمارے بقیہ تینوں احباب بھی پٹنہ پہنچ گئے، صبح9:00 بجے ہم پانچوں پٹنہ اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 5 پر جمع ہو گئے، اور اتفاق رائے سے ماسٹر ثاقب خان کو اپنا قائد سفر بنا لیا، تاکہ ہم لوگوں کا یہ سفر تمام طرح کے شدائد و نکبات سے خالی اور شوائب و نقائص سے بالاتر ہو، ہماری ٹرین صبح 10:30 بجے اپنے پلیٹ فارم پر آگئی، ہم اس پر سوار ہو گئے اور اپنی سیٹوں پر براجمان ہو کر دوستانہ گفتگو میں محو گئے، اعجاز احمد سے میری پہلی ملاقات یہیں ہوئی، موصوف بہت خلیق اور ملنسار انسان ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں ایک سنجیدگی بھی ہے، میں نے موصوف کو جامعہ میں جناب ثاقب خان کی زبانی جتنا سنا تھا اس سے کہیں زیادہ ہی پایا.

ہماری ٹرین اندور ایکسپریس وقت مقررہ صبح 11:00 بجے پٹنہ اسٹیشن سے کھل گئی اور چھک چھک کرتی و سیٹی بجاتی ہوئی اپنی منزل مقصود اندور کی طرف گامزن ہو گئی،تقریباً 26 گھنٹے کے ایک لمبے فاصلے کے بعد ہم لوگ 14 دسمبر کی دوپہر 1:00 بجے مدھیہ پردیش کے سیہور اسٹیشن پہنچے ،وہاں سے بذریعہ آٹو ہم اپنا ڈیرہ کوتوالی سیہور شہر پہنچ گئے.

ہم لوگوں کا ڈیرہ نہایت ہی عجیب و غریب تھا، وہ ایک بوسیدہ عمارت تھی، جو دیکھنے میں انگریز کے زمانے کی لگ رہی تھی، اس میں دو بڑے بڑے کمرے تھے، جس میں بیٹھنے کے لیے کوئی کرسی تھی اور نہ ہی سونے کے لیے چوکی و بستر وغیرہ، ایک چھوٹا سا باتھ روم تھا، جو نہایت ہی تاریک تھا، لائٹ چلے جانے کے بعد دن میں بھی اس میں جانے سے وحشت پیدا ہوتی تھی، اس پر ہم سب ساتھی کافی ملول ہو گئے، اس کے علاوہ ہم لوگ کر بھی کیا سکتے تھے.

چنانچہ ہم لوگوں نے سب سے پہلے طعام و قیام کا انتظام کیا، ہم نے تقریبا دس ہزار روپے خرچ کر کے کھانے پینے کی تمام ضروریات اور سونے و آرام کرنے کے سبھی لوازمات کی خریداری کی، کھانا کھا کر سفر کی تھکاوٹ دور کرنے اور جسمانی راحت کے لیے ہم رات کے ایک بجے بستروں میں چلے گئے، ہمارے احباب نے تو صبح 10:00 بجے تک میٹھی میٹھی نیند لی، جب کہ مجھے چوہوں کے شور و غوغے، مچھروں کی شرارت،اور زہریلے حشرات الارض کے ڈر کی وجہ سے پہلی رات ذرہ برابر بھی نیند نہیں آئی.

15 دسمبر کی صبح 11:00 بجے ہم اپنا سیٹنگ نمبر کا پتا لگانے بذریعہ آٹو اپنی یونیورسٹی گئے، یہ ہمارے ڈیرہ سے تقریباً 10کیلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، ہم لوگ 15 منٹ کے اندر یونیورسٹی کے کیمپس تک پہنچ گئے، وہ ہم سب کی نگاہوں کو خوب اچھی لگی، یہاں کی فلک بوس عمارتوں، چمچماتی سڑکوں، کشادہ میدانوں خوبصورت پارکوں ،دلفریب مناظر اور اچھے انتظام و انصرام نے ہمیں اپنا دلدادہ بنا لیا، ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ ہمارے لیے اجنبی ہے، یا ہم سب اس کے لیے اجنبی ہیں، جو بھی ملا مسکراتے ہوئے ملا، جیسے ہمارے اور ان کے بیچ برسوں کی شناسائی ہو.

ہمارا یہ امتحان پانچ پرچوں پر مشتمل تھا، ہمارے پہلے پرچے کا امتحان 16 دسمبر کو ہوا ، سوالات نہایت ہی آسان تھے ، پرانے طلبہ و طالبات نے ہمیں بتایا کہ آگے کے سوالات مزید آسان ہوں گے ، ان کی یہ بات سن ہمارے دلوں میں خوشیوں کی شہنائیاں بج پڑیں ، اور محنت چھوڑ کر یہاں کے تاریخی مقامات کی زیارت کا من کرنے لگا، لیکن یہ ہمارے لیے کسی بھی طور پر درست نہیں تھا، اس لیے ہم نے اپنے من کو کم از کم امتحان کے ایام میں بے لگام نہیں ہونے دیا، کیوں کہ اس کا ذلت آمیز نتیجہ ہماری نگاہوں کے سامنے تھا.

قابل ذکر یہ ہے کہ یہاں کے لوگ لذیذ ماکولات و مشروبات کھانے کے بہت بڑے شوقین ہیں، یہاں ہوٹلوں سے لے گھروں تک میں کھانے کی بہت سی ڈشیں تیار کی جاتی ہیں، جن میں سے ایک مشہور ڈش دال باپھلے ہے، یہ یہاں کی سب سے مرغوب ڈش ہے، یہاں جو بھی آتا ہے وہ یہاں کے لوگوں کی زبانی اس کی تعریفیں سن سن کر ایک دفعہ اسے ضرور تناول کرتا ہے، ہم نے تو جامعہ امام ابن تیمیہ ہی میں جناب عاقب خان( سابق استاد جامعہ امام ابن تیمیہ) کی زبانی اس کی ڈھیروں تعریفیں سن رکھی تھیں اور دلوں کے نہاں خانے میں اسے کھانے کی خواہش بھی پال رکھی تھی.

مورخہ 24 دسمبر کی صبح 9:00 بجے ہم پانچوں نے یہ فیصلہ کیا کہ آج ہمیں دال باپھلے ضرور کھانا ہے ،چنانچہ امتحان کے اختتام کے فورا بعد ہم لوگ پا پیادہ راجپوت ڈھابا کی طرف روانہ ہو گئے، جو کہ ہماری یونیورسٹی شری ستیا سائیں سے چند قدم کی دوری پر واقع ہے، ہم لوگ وہاں تقریباً دوپہر 2:30 بجے قدم رنجہ ہوئے، اس ڈھابہ کی آرائش و زیبائش اور گل کاری کا مشاہدہ کر کے ہماری برہنہ نگاہیں خیرہ ہو گئیں، ہمارے دلوں میں گدگدیاں رقص کرنے لگیں، ہم منٹوں تک اس ڈھابے کی خوبصورتی کو دیکھتے رہے، اس کے شمالی و جنوبی اطراف میں پارک بنے ہوئے تھے، اور اسی میں بیٹھ کر کھانا تناول کرنے کے لیے چاروں سمت ڈیسک لگے ہوئے تھے اور کرسیاں بچھی ہوئی تھیں، جو انتہائی حسیں و جمیل اور گل اندام و شکیل تھیں، ہم اس میں تقریباً ایک گھنٹہ تک سیلفیز لیتے رہے اور ایک دوسرے سے الگ الگ انداز میں انفرادی و اجتماعی تصاویر کھنچواتے رہے، میں سیلفی لیتے لیتے کافی بور ہو گیا تو چپ چاپ سامنے کی ایک کرسی پر بیٹھ گیا، میرے دیکھا دیکھی دیگر احباب بھی بیٹھ گئے.

ہمارے قائد سفر جناب ثاقب خان نے ہمارے سامنے کھڑے ویٹر کو پہلے یہاں کی محبوب و مشہور ڈش دال باپھلے کی ایک پلیٹ لانے کا حکم دیا، جب انہوں نے اسے سامنے والے ڈیسک پر لا کر رکھ دیا تو اس پر ہم پانچوں بھوکے شیر کی طرح ٹوٹ پڑے، ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا کہ پوری پلیٹ صاف ہو گئی، ہر کوئی اس کی شیرینی کا مداح بن گیا اور مزید کھانے کی خواہش کا اظہار بھی کر بیٹھا، ہمارے قائد نے مزید چار پلیٹوں کا آرڈر دے دیا، ویٹر نے ہمیں پانچ منٹ انتظار کرنے کو کہا، ان کا یہ جملہ جیسے ہی ہماری سماعتوں سے ٹکرایا، ہم سب کے چہروں پر پژمردگی طاری ہو گئی،کیوں کہ اسے بلا تاخیر مزید تناول کرنے کی خواہش ہم لوگوں پر شاق بن کر ٹوٹ رہی تھی.

ہمارا امتحان روٹنگ کے مطابق 26 دسمبر کی دوپہر 2:00 بجے ختم ہو گیا، ماشاءاللہ ہمارے پانچوں پرچوں کا امتحان پرسکون ماحول میں ہوا، اس دوران کسی طرح کی کوئی شرارت ہوئی اور نہ ہی کوئی ہنگامہ برپا ہوا، اس یونیورسٹی کے بیشتر طلبہ و طالبات اور معلمین و معلمات نے نئے طلبہ ہونے کی بنیاد پر ہمارا ہر موڑ پر نہ صرف ساتھ دیا، بلکہ آگے بھی ہماری ہر ممکنہ مدد کرنے کا وعدہ کیا.

پروگرام سفر کے تحت ہم نے مورخہ 26 دسمبر کی شام اپنے گھروں کے لیے وہاں کی کچھ مشہور چیزوں کی خریداری کی اور رات کے 10:00 بجنے سے پہلے ہی اپنے سامانوں کی ترتیب بھی دے ڈالی ، یہ رات ہم لوگوں کے لیے یہاں کی تمام راتوں میں سب سے پرسکون اور یادگار رات رہی ، ہم نے ہمارے نئے دوست جناب جنید اختر کے نام رات کے تقریباً 10:00 بجے اپنے ڈیرہ ہی میں ایک شعری نشست منعقد کی، اس میں جناب کوثر عطا جو پرکشش آواز اور خوبصورت لب و لہجہ کے مالک ہیں نے ایک عمدہ الوداعی نظم پیش کیا ، جسے سماعت کر کے ہمارے دوست جناب جنید اختر سمیت ہم سب کی آنکھیں نمناک ہو گئیں، اس کے بعد ہم میں سے ہر ایک نے باری باری اپنا منتخب کلام پیش کیا، میں نے ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں برجستہ شاعری کی، جسے ہمارے دوستوں نے خوب پسند کیا، اور مجھے ڈھیروں داد تحسین سے نوازا بھی ، یہ تاریخی ادبی نشست مسلسل رات 12:00 بجے تک پورے آب وتاب کے ساتھ چلتی رہی، رات کا نصف سے زائد حصہ گزر چکا تھا، اس لیے ہم میں سے کچھ کی آنکھوں میں نیند کا خمار چھانے لگا، بالخصوص ہمارے دوست جناب جنید اختر کی آنکھوں میں نیند نے ڈیرہ ہی ڈال دیا، کیوں کہ انہیں جلدی سونے کی عادت ہے، مزید اپنے والدین کے اکلوتا فرزند ہونے کی وجہ سے ان کے گھر سے بار بار کال آ رہی تھی، اس لیے ہم نے انہیں گھر جانے کی مکمل اجازت دے دی، اور خود ہم لوگ بھی اپنے بستر میں سو گئے.

27 دسمبر کی صبح 4:00 بجے ہم لوگ بیدار ہو، تمام بشری ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد اپنے سامانوں کا ایک مرتبہ جائزہ لیا، گھر کے مالکان و وہاں کے دوست و احباب سے علیک سلیک ہوئی، اور رابطے میں رہنے و دعاؤں میں یاد رکھنے کی باتیں ہوئیں.

صبح 5:00 بجے ہم بذریعہ دو آٹو وہاں سے سیہور اسٹیشن کے لیے روانہ ہو گئے، ہم ابھی سہی سے اپنی سیٹوں پر بیٹھ بھی نہیں پائے تھے کہ ہماری آٹو ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی ، کیوں کہ وہ ہمارے ڈیرہ کے قریب ہی تھا، اسٹیشن ماسٹر کی اطلاع کے مطابق ہماری ٹرین جبل پور ایکسپریس پلیٹ فارم نمبر 2 پر آنے والی تھی، اس لیے ہم اپنے سامانوں کے ساتھ اس پر چلے گئے، تقریباً پانچ منٹ بعد ہماری ٹرین کان کے پردوں کو پھاڑ دینے والی آواز میں سیٹی بجاتی ہوئی دفعتاً آ دھمکی ، ہم لوگ کافی آگے تھے، جب کہ ہماری سیٹیں پیچھے والے ڈبے میں تھیں ، اس کی وجہ سے ہمیں کافی پریشانی اٹھانی پڑھی، ہمیں اژدہام کو چیرتے ہوئے دوڑ کر کئی ڈبوں کو عبور کرنا پڑا،ٹرین کھلنے سے پہلے ہم اپنے ڈبے پر چڑھ گئے اور آرام سے اپنی سیٹوں پر بیٹھ بھی گئے، میں نے رات میں بہت کم نیند لی تھی،ٹرین کھلتے ہی مجھے گہری نیند آ گئی، صبح 11:00 بجنے سے پہلے ہم اٹارسی جنگشن پہنچ گئے، ہم نے ناشتہ وغیرہ کیا، اور اپنے اپنے موبائل چلانے میں محو ہو گئے، ابھی میں نے چند ہی وڈیوز دیکھے تھے کہ دو گھنٹے گزر گئے، میں نے فوراً اپنا موبائل جیب رکھا اور جناب کوثر عطا کو ساتھ لے کر زاد سفر کے لیے ایک ہوٹل کی طرف رخ کیا ، وہاں سے ہم نے کھانے پینے کی کچھ ضروری اشیاء خریدیں اور سیدھے پلیٹ فارم نمبر 7 پر آ گئے، کیوں کہ ہماری ٹرین سنگمترا سپر فاسٹ ایکسپریس اسی پر آنے والی تھی، ٹرین اپنے وقت مقررہ 2:38 بجے اپنے متعینہ پلیٹ فارم پر چھک چھک کرتی ہوئی آئی ، ہم اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ اپنی سلیپر بوگی 5 پر سوار ہو گئے اور اپنی سیٹوں پر براجمان ہو کر محو گفتگو ہو گئے.

اٹارسی میں ہمارا سامنا ایک سنگھی خاتون سے ہوا جو ہمیں اپنے سامنے دیکھ کر فرط غیض و غضب میں آ گئی، کیوں کہ دیکھنے میں ہم دور ہی سے مسلمان لگ رہے تھے، اٹھنے بیٹھنے کو لے ہمارے ساتھیوں سے کئی دفعہ اس کا بحث و مباحثہ بھی ہو گیا ، لیکن ہمارے حسن اخلاق کے سامنے اسے آخر کار بے بس ہونا پڑا اور اسے اپنے اسٹیشن ستنا پہنچنے سے پہلے ہمیں sorry کہنا پڑا.

آرہ اسٹیشن میں ہماری گاڑی پر ہنجڑوں کی ایک جماعت سوار ہو گئی، انہوں نے کبھی ہماری مدح سرائی میں پل تعمیر کیا تو کبھی ہم پر لعن طعن کے تیر و نشتر بھی چلائے، انہوں نے ہمیں ایسے ایسے القاب سے نوازا، جنہیں حیطہ تحریر میں لانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے، ہماری ٹرین 11:00 بجے اپنی منزل مقصود دانا پور پہنچ گئی، یہاں ہم نے اتر کر ایک دوسرے کو سلام مصافحہ کیا، اور اپنے اپنے گھروں کے لیے علیحدہ علیحدہ راستے چن لئیے.

میں نے صبح 11:30 بجے بھاگلپور کے لیے دانا پور میں غریب رتھ ایکسپریس پکڑ لی، جو پانچ گھنٹے لیٹ کے ساتھ شام 4:00 بجے بھاگلپور پہنچی، یہاں سے میں نے شام 4:40 بجے جمالپور =رامپور پسنجر ٹرین پکڑی، اس میں کافی بھیڑ تھی، جس کی وجہ سے مجھے تقریباً 30 منٹوں تک کھڑے کھڑے سفر کرنا پڑا، کہلگاؤں میں مجھے ایک سیٹ تو ملی، لیکن میں اس پر خود نہیں بیٹھا بلکہ سامنے کھڑی ایک بزرگ ہندو خاتون کو اس پر بیٹھنے کا اشارہ کر دیا، وہ مجھے نیک دعاؤں سے نوازتے ہوئے آرام سے اس پر بیٹھ گئی، ہماری یہ ٹرین شام 6:00 بجے مرزا چوکی ریلوے اسٹیشن پہنچی، میں نے مرزاچوکی بس اسٹنٹ سے ایک آٹو پکڑی اور گھر کے لیے روانہ ہو گیا، میں رات8:00 بجنے سے پہلے ہی اللہ کے فضل و کرم سے 16 دنوں کے گھر واپس ہو گیا، کھانا وغیرہ کھا کر اپنے دیگر احباب کو کال کیا تو ان میں سے ہر ایک نے یہی مژدہ جانفزا سنایا کہ وہ بھی اپنا گھر پہنچ چکے ہیں، یہ سن کر میرا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا، اس پر میں نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکریہ ادا کیا اور اپنے دیگر احباب کو بھی اس کی ترغیب کی.

دلچسپ بات یہ ہے کہ سیہور میں ہمارے کئی نئے دوست بھی بنے اور بہتوں سے ہمارا تعارف بھی ہوا، کئی ایک نے ہماری شاندار میزبانی بھی کی، جب انہیں وثوق ذرائع سے یہ معلوم ہوا کہ ہم ملک کے ایک بہت بڑے دینی ادارے جامعہ امام ابن تیمیہ مشرقی چمپان کے اساتذہ کرام ہیں اور ہم اچھا لکھتے و بولتے بھی ہیں تو ہمارے تئیں ان میں وارفتگی پیدا ہو گئی.

منجملہ یہ کہ سیہور مجھے اور میرے سبھی ساتھیوں کو خوب بھایا، یقیناً یہ ایک چھوٹا سا شہر ہے، لیکن نہایت ہی پرسکون ہے، یہاں کسی طرح کا کوئی شور و غوغا ہے اور نہ ہی کوئی لڑائی جھگڑا، اس کی گلیاں کافی چوڑی اور راستے بہت کشادہ ہیں، یہاں وقت کے ساتھ ساتھ جدید طرز تعمیر والی خوشنما عمارتیں بھی ہیں، یہاں کے لوگوں کا بودوباش بھی نئے تقاضوں کے عین مطابق ہے، یہ بھیڑ سے کوسوں دور، اور ٹریفک کے اژدہام سے پاک و صاف ہے ،یہاں کی فضائیں کھلی ہیں ،اور ہوائیں ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہیں، جو ایک انسانی جسم و دماغ کے لیے نہایت ہی ضروری ہیں، مزید یہ کہ یہاں اعلیٰ و معیاری تعلیم کے جال جگہ جگہ بچھے ہیں، قدم قدم پر علم و عرفان اور صنعت و حرفت کے جاری چشمے ہیں، جنہیں دیکھ کر یہاں ہر آنے والا ان کا دیوانہ بن جاتا ہے، ان پر گلہائے عقیدت نچھاور کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور اس کی زبان سے ایک مرتبہ ہی سہی ضرور یہ کلمہ نکلتا ہے کہ اے مرکز علم و عرفان سیہور تجھے سلام.

 

سہیل لقمان تیمی

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *