یہ کائنات

یہ کائنات ___
مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ
مولانا انصار احمد معروفی (ولادت5مئی 1971ئ) نے مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ سے عالم فاضل، کامل اور دار العلوم دیو بند سے فضیلت اور تکمیل ادب کی سند حاصل کی ہے ، خوش نویسی کا فن دہلی اور دیو بند سے حاصل کیا، تدریسی وابستگی مدرسہ چشمۂ فیض ادری ، ضلع موء سے ہے ، سکونت بھی اسی ضلع کے پلوہ پور، کرتھی، جعفر پور ضلع مﺅ ہے، نقوش عثمان ،حیات مولانا زین العابدین اعظمی، اے میری امی ، باغ کی بہاریں اور بچوں کے لیے سائنسی کہانیاں انہوں نے لکھی ہیں جو معروف ومقبول ہیں، ان کے علاوہ مولانا نے سائنسی موضوعات پر مضبوط شاعری کی ہے، اس سلسلہ کی سات کتابیں یہ کائنات، یہ زمین، یہ پیڑ پودے، یہ بدن، یہ جسم وجان، یہ آب وہوا، یہ مہینے اور موسم ہیں، جن کی طباعت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے ذریعہ ہوئی ہے، چونکہ زمین ، پیڑ پودے بدن ، جسم، آب وہوا، مہینہ اور موسم، کائنات کی شاخ درشاخ چیزیں ہیں، اس لیے اس تبصرہ کا مرکزی عنوان ”یہ کائنات“ کو بنایا گیا ہے، حالاں کہ یہ ان کی تمام کتابوں پر ایک اجمالی تبصرہ ہے۔
علماءکے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ ان کی دلچسپی سائنسی موضوعات سے نہیں ہوتی وہ علوم دینیہ شرعیہ کے دائرے سے باہر نہیں نکلتے ، اس کلیہ کو مولانا انصار احمد معروفی نے غلط کر دکھایا ہے، ان کی تعلیم مدرسہ ہی سے ہے، پڑھاتے مدرسہ میں ہی ہیں، لیکن شاعری سائنسی موضوعات پر کرتے ہیں، شاعری خود ایک فن ہے، جس کے ہر قدم پر قافیہ ، ردیف کی پابندی پل صراط پر چلنے جیسا ہوتا ہے، اب اگر یہ شاعری موضوعاتی ہو تو دشواریاں مزید بڑھ جاتی ہیں، اس لیے ہمارے یہاں غزل، نظم، قطعہ، رباعی ، قصیدہ وغیرہ کی شاعری تو بہت ہوتی ہے ، لیکن موضوعاتی شاعری کا ذخیرہ اردو ادب میں کم ہے، ہمارے دور میں جناب پروفیسر عبد المنان طرزی، نقش بند قمر نقوی مرحوم امریکہ ،متین اچھل پوری مہاراشٹر اور احمد علی برقی مرحوم کا نام اس اعتبار سے بہت نمایاں رہا ہے ، اب جب سائنسی موضوعات پر مولانا انصار معروفی کی یہ کتابیں میرے سامنے آئیں تو میں حیرت زدہ رہ گیا اور مولانا کے ذوق سخن اور قادر الکلامی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکا۔
مولانا نے ان موضوعات پر کتابیں تیار کرنے کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ”میں نے اپنی نظموں کے لیے سائنسی علوم کو اس لیے ترجیح دیا ہے تاکہ ان علوم سے بچوں کو ایک خاص مناسبت پیدا ہوجائے اور اردو کا دامن بھی اس حوالے سے وسیع ہوجائے۔ (یہ کائنات صفحہ 8)
اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں”بچوں کے دل ودماغ میں شروع سے ہی سائنسی معلومات کو نظم میں پیش کرکے ان کو سائنس کے قریب لایا جائے تاکہ ان کے اندر تحقیق ، فکر وجستجو ، بحث ونظر اور کھوج کا جذبہ پیدا ہوجائے اور وہ بڑے ہو کر اس میدان میں کچھ کر دکھانے کا حوصلہ اپنے اندر پاسکیں ۔(یہ زمین،صفحہ 7)
انصار احمد معروفی نے ان تمام کتابوں کا آغاز اللہ کی حمد وثنا اور نعت پاک سے کیا ہے ، بعض کتابوں کے شروع میں صرف حمد اور بعض میں صرف نعت کو شامل کیا ہے ، جس کا مقصد اپنے کام کو نقص سے محفوظ رکھنا ہے ، اللہ کے احکام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اوران کے مطابق مثالی زندگی خلاصہ کائنات ہے، اور اللہ ورسول سزا وار حمد وستائش ہیں۔ سائنسی موضوعات پر لکھی گئی ان نظموں کے مجموعوں کو حمد ونعت سے مزین کرنا قابل ستائش بھی ہے اور لائق تقلید بھی۔ مولانا نے حمد ونعت کے بعد جن موضوعات کو شعری قالب عطا کیا ہے ، اس میں سورج اور گرمی، نظام شمسی، پہاڑ کی چوٹیاں ٹھنڈی کیوں، زمین کی کشل ثقل، سورج ، چاند گرہن ماحولیات کا تحفظ کہکشاں اوس، کہرہ، برف، عمل تبخیر ، ہوا کا دباؤ وغیرہ خاص طور سے قابل ذکر ہیں، یہاں صرف ”یہ کائنات“ کے بعض عنوانات کو قلم بند کیا گیا ہے، تمام کتابوں کے موضوعات اور ان کے ذیلی عناوین کے ذکر کی نہ یہاں ضرورت ہے اور نہ موقع۔
چوں کہ یہ کتابیں نظم میں ہیں، اس لیے کچھ مثالوں سے مولانا کی قادر الکلامی اور فنی گرفت کو بھی جان لینا ضروری ہے، یہ بدن کے حصے کے چند اشعار دیکھئے:
نظر یہ بد بھی ہوتی ہے، نظر اچھی بھی ہوتی ہے
اگر لگ جائے نظرِ بد پریشانی بھی ہوتی ہے
حیا آنکھوں میں نہ ہو تو وہ آنکھیں بند ہی اچھی
اسے سمجھاؤ تو لگتی نہیں ہے پند ہی اچھی
ناک کا تعارف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
کیسا لگتا ناک چہرے پر نہیں ہوتی اگر
پھر یہ پورا چہرہ اک میدان سا آتا نظر
گند ی چیز انسان کھا جاتا بلا خوف وخطر
سونگھ پاتے خوشبو یا بدبو کو کیسے بے خبر
آتش فشاں پہاڑ کی قسمیں بھی انصار احمد معروفی سے سن لیجئے:
آگ اگلتی ان پہاڑوں کی قسمیں تیں ہیں
نام اور اوصاف ہم بتاتے ہیں تمہیں
اک ”رواں“ ہے دوسرے کا نام ”پوشیدہ“ جناب
تیسرے کا نام ہے خاموش کچھ سمجھے جناب
جو پہاڑ اس میں رواں ہے آگ اگلتا ہے مدام
پھینکنا ہے گیس لاوا، بھاپ کا بس اس کا کام
یہ سب کتابیں بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر خوبصورت اور دیدہ زیب چھپی ہیں، سر ورق پر بھیا ن کی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہے، اگر آپ کی دلچسپی ان کتابوں سے ہے اور ان موضوعات پر بچوں کو اشعار یاد کراکر ان کے علم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ”یہ کائنات“ کے ستر(70)، یہ زمین، یہ مہینے اور موسم کے پچیس ، پچیس (25) یہ بدن کے حصے اور یہ جسم وجان بیس بیس (20) روپے کو قومی کونسل برائے فروغ اردو بھون FC-33/9انسٹی ٹیوشنل ایریا جسولہ نئی دہلی 25 سے حاصل کر سکتے ہیں۔ ”یہ کائنات“ مکتبہ الفہیم مﺅ ناتھ بھنجن اور مکتبہ نعیمیہ صدر بار مﺅ سے مل سکتی ہے۔ مزید معلومات کے 8853214848 پر رابطہ کریں۔

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *