شکیب اکرم: بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔

شکیب اکرم: بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔!
ڈاکٹر محمد سراج اللہ تیمی، پٹنہ
رابطہ نمبر: 9199,726661
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
                  (  خالد شریف )
       معروف ادیب وشاعر محترم خورشید اکرم سوز گزشتہ روز دفتر روز نامہ قومی تنظیم، سبزی باغ، پٹنہ میں تشریف لائے تھے۔ان کی آمد پر مجھے ازحد خوشی ہوئی تھی ، مگر میں نے شدت سے محسوس کیا تھا کہ وہ بڑے رنجیدہ، غمزدہ اور اداس ہیں۔ اتنا اداس اس سے قبل انہیں کبھی نہیں دیکھا تھا۔جب انہوں نے اپنی مرتبہ کتاب ” ذکر تیرا بعد تیرے ” مجھے اور بڑے بھائی و مشہور صحافی جناب راشد احمد (معاون مدیر روز نامہ قومی تنظیم پٹنہ) کو عنایت کی تھی تو ان کی آنکھیں نم دیدہ نظر آئیں ۔گویا وہ زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ:
الم تمہارا رہے گا دل میں وہ زندگی بھر
جو نم ہیں آنکھیں تمہارے اس ناگہاں سفر پر
تمہارا غم ان کی مغفرت کا بنے ذریعہ
شکیب اکرم جوار رحمت میں درج ہوکر
           (پروفیسر عبد المنان طرزی)
       دراصل خورشید اکرم سوز کے جواں سال اکلوتے فرزند ارجمند محمد شکیب اکرم کا 27 / مارچ 2021 کو انتقال پر ملال ہوگیا تھا اور جناب سوز  نے ان کے جنازہ کو کندھا دیا تھا، خود نماز جنازہ پڑھائی تھی اور خود ہی اپنے ہاتھوں سے میت کو قبر میں اتارا بھی تھا۔ یہ سب کچھ کرنا جناب خورشید اکرم سوز کے لیے یقیناً بہت ہی مشکل رہا ہوگا۔ اس کا صرف اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس کو الفاظ کا ایساجامہ پہنایا ہی نہیں جاسکتا جس سے کہ اس کا مکمل حق ادا ہوسکے۔ مجھے لگتا ہے کہ کماحقہ ادائیگی کسی کے بس کا نہیں، میرے بس کا تو اور بھی نہیں۔ میں تو اس سے قاصر ہی قاصر اور عاجز عاجز ہوں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ محترم خورشید اکرم سوز اور ان کی شریک حیات محترمہ نزہت جہاں قیصر کو صبر جمیل عطا کرے، آمین!
      معزز قارئین ! تفصیلات کے مطابق 19/ فروری 2021 کو محمد شکیب اکرم رحمہ الله رحمۃ واسعۃ مدراس میں ایک سڑک حادثے کا شکار ہوگئے تھے۔ وہ اپنے ایک پروفیسر استاد کے ہمراہ بائک پر ردیف بن کر کہیں جا رہے تھے کہ اچانک اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کی بس نے پیچھے سے ٹکر ماردی تو دونوں زمین پر گر پڑے۔ بائک پروفیسر صاحب ڈرائیو کررہے تھے۔ دونوں کو  internal head injury ہوئی جس سے دونوں بے ہوش ہوگئے۔ دونوں کو بیہوشی کی حالت میں ہی اپولو اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا۔ 26/ مارچ 2021 کو ٹرین ایمبولینس سروس کے ذریعہ مزید بہتر علاج کے لیے کولکاتہ کے Institute of  Neuro  Science لے جایا گیا۔ 27 / مارچ 2021 کی شب میں 11:52 بجے وہاں پہنچتے ہی محض 23 برس کی عمر ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی اور برضائے الہی وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گویا محمد شکیب اکرم کم عمری میں ہی یہ ٹھان اور مان رکھا تھا کہ :
کسی دن سبھی کو رلا جاؤں گا
اگر موت آئی، چلا جاؤں گا
       آج ہم لوگ سائنسی دور میں جی رہے ہیں۔ سائنسی آلات کی ایجادات واختراعات اور
جدید تکنالوجی نے انسانوں کو آسمان کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے، مگر آج بھی انسان نظام ربانی کے سامنے بے بس وبے کس اور لا چار ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے اپنی نظم ” زمانۂ حاضر کا انسان” میں اس کو کچھ اس انداز اور ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
عشق ناپید و خرد میگزدش صُورتِ مار
عقل کو تابعِ فرمانِ نظر کر نہ سکا
ڈھُونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا
اپنے افکار کی دُنیا میں سفر کر نہ سکا
اپنی حِکمت کے خم و پیچ میں اُلجھا ایسا
آج تک فیصلۂ نفع و ضرر کر نہ سکا
جس نے سورج کی شُعاعوں کو گرفتار کیا
زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا
     موت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے، مگر کسی کی بھی موت کب آئے گی، کہاں آئے گی، سفر میں آئے گی یا حضر میں آئے گی، اپنے گھر، گاؤں اور علاقے میں آئے گی یا دور دراز علاقے میں قیام کے دوران آئے گی، پیدل چلتے ہوئے آئے گی یا جہاز، ٹرین، بس، آٹو، بائک وغیرہ پر سوار ہوکر سفر کرنے کے دوران آئے گی۔ ان سب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، کسی بشر کو بالکل بھی نہیں۔ تمام طرح کی ترقیات کے باوجود سائنسدان موت کے وقت کا سراغ لگانے کے لیے کسی بھی طرح کی کوئی بھی مشین ، آلہ یا تکنیک کی ایجاد و اختراع سے آج تک قاصر ہیں۔حیرت الہ آبادی کا مشہور زمانہ یہ شعر انسان کی زندگی کی بےثباتی اور موت سے عدم آگاہی کا بہترین ترجمان ہے:
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
اور یہ شعر بھی صد فیصد مبنی بر حقیقت ہے کہ :
          کیا بھروسہ زندگانی کا
            آدمی بلبہ ہے پانی کا
       ہم تمام انسانوں، جنوں اور دیگر مخلوقات کی طرح بابو شکیب اکرم بھی اس بات سے بالکل بے خبر تھے کہ والدین اور خویش و اقارب اور دیگر رشتہ داروں سے دور بہت قیام کے دوران بائک پر سوار ہو کر سفر کرتے وقت سڑک حادثے کا شکار ہوجائیں گے اور جام ممات نوش کر لیں گے۔ اگر انہیں اس کی تھوڑی سی بھی آگاہی ہوتی تو یقیناً وہ اپنے آبائی وطن سے دور بہت دور مدراس میں سڑک حادثے کا شکار ہوتے، شدید طور پر زخمی ہوتے اور ناہی کولکاتہ میں جام ممات نوش کرتے، بلکہ اپنے آبائی گاؤں، گھر قیام کرتے اور والدین و دیگر رشتہ داروں کے درمیان ہی رہتے، انہی کے بیچ داعئ اجل کو لبیک کہتے اور سفر آخرت پر روانہ ہوتے، مگر شکیب کے اختیار میں یہ ممکن کہاں تھا۔ اس لیے کہ پانچ چیزوں کا علم صرف اور صرف  اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، کسی بھی انسان یا دیگر مخلوقات کو نہیں، ان پانچ میں سے ایک موت بھی ہے۔ قرآن مقدس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ”  یعنی یقینا (قیامت کی) گھڑی کا علم ﷲ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا اور نہ کسی متنفس کو یہ پتہ ہے کہ کونسی زمین میں اُسے موت آئے گی۔ بیشک ﷲ ہر چیز کامکمل علم رکھنے والا، ہر بات سے پوری طرح باخبر ہے۔
      مرحوم محمد شکیب اکرم نے 2020 میں فرسٹ کلاس ڈسٹنکشن (First Class Distinction ) کے ساتھ کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ (CSE) میں  B.Tech  کیا تھا اور ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں Associate Software Engineer کی حیثیت سے ان کا Placement بھی ہو چکا تھا ۔ وہ نہایت ہی ہو نہار ، ملنسار  اور ہر دلعزیز نوجوان تھے اور صوم وصلواۃ کے  پابند بھی ۔ وہ ضرورت مندوں کی خاموشی سے مدد کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے اساتذہ کے بھی چہیتے تھے، عزیز و اقارب اور احباب  کے بھی  بہت پیارے ! شکیب کے انتقال کے بعد  نامور عالم دین  مولانا حافظ سید اقبال عمری صاحب نے  اپنے تعزیتی  مضمون بہ عنوان ” عسر میں یسر / محمد شکیب اکرم کی وفات پر ایک تاثر ” میں عزیزی شکیب کی کچھ خاص خوبیوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ بایں سطور رقمطراز ہیں :
       ” ۔۔۔۔۔۔ بچے کے بارے میں اس کے قریبی جاننے والوں نے بتایا کہ وہ بالکل سادہ مزاج کا تھا۔ مکمل فرنشڈ فلیٹ میں رہنے کے باوجود  ایک روم میں معمولی چٹائی بچھا کر رہا کرتا تھا، اور بڑی خاموشی سے ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتا تھا۔ Intellectuals کے درمیان دعوتی لٹریچر بھی تقسیم کیا کرتا تھا۔”
       یہ سب باتیں بہت ہی عجیب  ہیں اور سوچنے والوں کے لئے ان میں عبرت ونصیحت کے سامان ہیں۔ شکیب کی انہیں خوبیوں کی وجہ سے بڑے بھائی و سینئر صحافی جناب راشد احمد نے اپنے تعزیتی مضمون میں ان کو ” اقبال کا مرد مومن” قرار دیا ہے جبکہ جناب اقبال بشر نے ” صوفی صفت انسانیت کا پیکر ” بتایا ہے۔ یہ کہنا عین انصاف کی بات ہوگی کہ شکیب کے اندر موجود اعلیٰ اخلاقی اور مذہبی اقدار انہیں نئی نسل کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے درمیان ایک ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔
       معزز احباب ! ہم سب بخوبی جانتے اور  سمجھتے ہیں کہ کسی بھی والدین کے لیے یہ بہت ہی صبر آزما ہوتا ہے کہ ان کی حیات میں ان کا جواں سال بیٹا یا بیٹی انہیں داغ مفارقت دے کر سفر آخرت پر روانہ ہو جائے ۔ فطری طور پر وہ برسوں اولاد کی جدائی کے غم میں نڈھال ہوتے ہیں، ان کے دل چور چور ہوتے ہیں، ایک ایک پل گھٹ گھٹ کرگزارتے ہیں، ہمہ وقت وہ آہیں بھرتے رہتے اور سسکیاں لیتے رہتے ہیں نیز گاہے بگاہے اس کا ذکر کرکے اپنے دلوں کو تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ خورشید اکرم سوز اور ان کی اہلیہ محترمہ نزہت جہاں قیصر بھی انہی حالات سے دوچار ہیں۔ اکلوتے بیٹے شکیب اکرم کو اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کئے ہوئے اور اہل خانہ کو داغ مفارقت دیے ہوئے تقریباً پونے دو برس ہوچکے ہیں، مگر خورشید اکرم اور نزہت جہاں دونوں اب بھی ان کی جدائی پر رنج والم سے نڈھال ہیں جو فطری چیز ہے۔ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کتب احادیث و سیر میں مذکورہ ہے کہ ان کی سبھی نرینہ اولاد بلوغت سے قبل ہی داعی اجل کو لبیک کہہ گئی۔ حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن اطہر سے جنمے ان کے لخت جگر حضرت ابراہیم نے بھی عہد طفولیت میں ہی اپنے ابا حضور و ہم سب کے پیارے رسول حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کو داغ مفارقت دے دیا۔جب ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کی تو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نعش مبارک کو اپنی آغوش میں لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جدائی کے رنج و غم سے نڈھال تھے، آنکھیں اشک بار تھیں ، مگر پھوٹ پھوٹ کر رونے، چیخ و پکار کرنے، سینہ کوبی کرنے، گریباں چاک کرنے اور نوحہ و ماتم کرنے سے مکمل طور پر احتراز کیا اور اپنے منہ مبارک سے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والی باتوں سے مکمل طور پر احتراز و اجتناب کیا۔اس سلسلے میں بخاری شریف میں ایک روایت اس طرح درج ہے: عن أنس بن مالك رضي الله عنه، قال: دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على أبي سيف القين، وكان ظئرا لإبراهيم عليه السلام، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم إبراهيم، فقبله، وشمه، ثم دخلنا عليه بعد ذلك وإبراهيم يجود بنفسه، فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تذرفان، فقال له عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه: وأنت يا رسول الله؟ فقال: «يا ابن عوف إنها رحمة»، ثم أتبعها بأخرى، فقال صلى الله عليه وسلم: «إن العين تدمع، والقلب يحزن، ولا نقول إلا ما يرضى ربنا، وإنا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون» رواه موسى، عن سليمان بن المغيرة، عن ثابت، عن أنس رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم۔
( Narrated By Anas bin Malik : We went with Allah’s Apostle (p.b.u.h) to the blacksmith Abu Saif, and he was the husband of the wet-nurse of Ibrahim (the son of the Prophet). Allah’s Apostle took Ibrahim and kissed him and smelled him and later we entered Abu Saif’s house and at that time Ibrahim was in his last breaths, and the eyes of Allah’s Apostle (p.b.u.h) started shedding tears. ‘Abdur Rahman bin ‘Auf said, “O Allah’s Apostle, even you are weeping!” He said, “O Ibn ‘Auf, this is mercy.” Then he wept more and said, “The eyes are shedding tears and the heart is grieved, and we will not say except what pleases our Lord, O Ibrahim ! Indeed we are grieved by your separation ) ۔
        یعنی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہم رسول اللہﷺکے ساتھ ابو سیف لوہار کے پاس گئے۔ جو حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ (رسول اللہﷺکے صاحبزادے) کو دودھ پلانی والی کے خاوند تھے۔رسول اللہﷺنے ابراہیم کو (گود میں ) لیا اور ان کو پیار کیا اور سونگھا ۔پھر اس کے بعد ہم ابو سیف کے پاس گئے، دیکھا تو ابراہیم دم توڑ رہے ہیں، یہ دیکھ کر رسول اللہﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپﷺ بھی( لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے ) آپﷺ نے فرمایا: اے ابن عوف ! یہ ( بے صبری نہیں ) رحمت ہے پھر دوسری بار روئے اور فرمایا: آنکھ تو آنسو بہاتی ہے اور دل کو رنج ہوتا ہے پر زبان سے ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہے۔ بے شک ابراہیم ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
         بہرحال ! جناب خورشید اکرم سوز اور ان کی شریک حیات محترمہ نزہت جہاں قیصر نے اپنے نرینہ اکلوتے نور نظر و لخت جگر کو تادیر یاد کرنے، تاریخ کا حصہ بنانے، اہل علم و عمل سے دعائیں لینے اور مغفرت و بخشش نیز جنت  الفردوس میں اعلی مقام کے حصول کے مقصد سے باضابطہ 320 صفحات پر مشتمل کتاب  ” ذکر تیرا بعد تیرے” ترتیب دے کر شائع کی ہے جو مرحوم شکیب اکرم کی حیات کے تابندہ نقوش اور اوصاف وکمالات و دیگر مناقب وغیرہ سے متعلق ملک و بیرونی ملک کے مشاہیر قلمکاروں کے تعزیتی و تأثراتی مضامین اور شعراء کے منظوم کلام پر مشتمل  ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مرحوم شکیب اکرم کم عمری میں ہی بہت ساری خوبیوں اور فضائل و کمالات کے حامل تھے۔ یہ حقیقت بھی طشت ازبام ہوتی ہے کہ جناب خورشید اکرم سوز اور نزہت جہاں قیصر اپنے جگر کے ٹکڑے کی جدائی پر بہت ہی زیادہ رنج و غم اور صدمے سے دوچار ہیں۔ یقیناً یہ قابلِ صد ستائش ہے کہ ان مشکل ترین حالات میں جناب سوز اور محترمہ نزہت جہاں نے ملک وبیرون ملک کے مشاہیر قلمکاروں، فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں سے ان کے متأثراتی و تبصراتی مضامین قلمبند کروائے، ان کی کمپوزنگ کروائی، بار بار پروف ریڈنگ کی اور پھر اور انہیں بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ کتاب کی کوئی قیمت بھی طے نہیں کی، بس دعائے مغفرت، سبحان الله۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام مراحل بہت ہی مشکل رہے ہوں گے، مگر بابو شکیب کی محبت میں جناب سوز اور محترمہ نزہت جہاں  نے سب کچھ گوارہ کیا جو ان کے لائق وفائق اور مثالی والدین ہونے کا غماز ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل کی توفیق دے اور بابو شکیب اکرم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے۔ اللهم اغفر له وارحمه، وعافه واعف عنه، وأكرم نزله، ووسع مدخله، واغسله بالماء والثلج والبرد، ونقه من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس، وأبدله دارا خيرا من داره، و أدخله الجنة ونجه من النار، آمین!
آسماں تری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزئہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
نیز :
ذکر تیرا بعد تیرے اے شکیب چلتا رہے
سب کے دل میں مغفرت کی ہو دعا تیرے لیے
   ——+++++——-

اپنے مضامین اور خبر بھیجیں


 udannewsdesk@gmail.com
 7462884092

ہمیں فیس بک پیج پر بھی فالو کریں


  https://www.facebook.com/udannewsurdu/

loading...
udannewsdesk@gmail.comآپ بھی اپنے مضامین ہمیں اس میل آئی ڈی پر بھیج سکتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *